متفرقات

مردارجانور کو یونہی پھینک دیناکیسا؟

کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلے میں کہ میں نے اکثرلوگوں کودیکھاہے کہ ان کے پاس کوئی جانور ہوجیسے مرغی یااورکوئی پرندہ اگروہ مرجائے تو اس کو کوڑے وغیرہ کے ڈھیرپر پھینک دیتے ہیں ایساکرناشریعت میں کیساہے؟

المستفتی:غلام ازہری رضا اسمٰعیلی
مسلم پورہ ،کٹواں،بنارس

الجواب بعون الملک الوھاب

لوگوں کو چاہیے کہ مردہ جانوروں کو کسی گڈھے میں ڈال کرپاٹ دیں کہ لوگ اس کی بدبووغیرہ مضرات سے محفوظ رہیں ،اورلوگوں کی نظروں سے دورافتادہ زمین پر ڈال دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں،بلکہ اگر اس نیت سے ڈالے کہ وہ دوسرے حشرات الارض وغیرہ کی غذاہوجائے تواولیٰ ہے،درمختارمیں ہے:’’اماالمرتد فیلقی فی حفرۃ کالکلب‘‘(ج:۳،ص:۱۳۴)مراقی الفلاح میں ہے:’’والقاہ فی حفرۃ من غیرموضع کالجیفۃ‘‘حاشیہ علامہ طحطاوی علی المراقی میں ہے:’’ویلقیہ طرحاکالجیفۃ‘‘(ص:۶۰۱)،حدیث پاک میں ہے: ’’وانماالاعمال بالنیات‘‘
(صحیح البخاری،کتاب بدء الوحی،ص:۱۳،رقم الحدیث۱:)
اسی میں ہے:’’قالوایارسول اللہ ﷺ! وإن لنافی البھائم اجرا؟قال :فی کل کبد رطبۃ اجر‘‘
(کتاب المساقاۃ ،باب فضل سقی الماء،ص:۴۲۶،رقم الحدیث:۲۳۶۳) واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

۲۴؍جمادی الاخری۱۴۴۵ھ؍۷؍جنوری ۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے