سوال: مفتی صاحب! میں آن لائن ڈراپ شپنگ کرتا ہوں۔ یعنی گاہک سے آرڈر لے کر دوسرے سپلائر سے سامان ڈائریکٹ کسٹمر کو بھجوا دیتا ہوں۔ میرے پاس سامان موجود نہیں ہوتا۔ کیا یہ طریقہ شرعاً درست ہے؟
جواب:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
شریعت میں بیع کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ سامان بیچنے والے کے قبضے میں ہو۔ جو چیز آپ کی ملکیت یا قبضے میں نہ ہو اسے بیچنا "بیع معدوم” کہلاتا ہے جو جائز نہیں۔
ڈراپ شپنگ کی جائز صورت یہ ہے کہ:
1. آپ پہلے گاہک سے وعدہ بیع کریں، سودا پکا نہ کریں۔ 2. پھر سپلائر سے سامان خرید کر اپنے قبضے میں لیں، چاہے مجازی قبضہ ہو۔ 3. اس کے بعد گاہک کے ہاتھ فروخت کریں۔
یا پھر آپ سپلائر کے وکیل بن کر کمیشن پر کام کریں اور گاہک کو صاف بتا دیں کہ آپ صرف درمیانی واسطہ ہیں۔
محض تصویر دکھا کر سامان بیچ دینا اور بعد میں سپلائر سے بھجوانا، یہ صورت ناجائز ہے کیونکہ اس میں غرر اور دھوکہ کا اندیشہ ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
فتویٰ نمبر: TS-2026-010
مفتی: ۔۔۔۔۔۔
تاریخ: 09 مئی 2026
