متفرقات

فلمی میوزک کی تشہیر کرنے والے کی امامت کا حکم

فتویٰ نمبر:۷۷

کیا فرماتے ہیں علماے کرام مفتیان اسلام مسئلہ ذیل میں کہ زید امام ہے شوشل میڈیا پر اپنے آفیشیل چینل پر اپنی تقریر کی ویڈیو کے بیک گراؤنڈ میں فلمی میوزک لگاتا ہےتو اس کے پیچھے نمازکا کیا حکم ہے؟ فقط والسلام
المستفتی: محمد اسلم ،دھمریا، بنارس

الجواب بعون الملک الوھاب
جاندار کی تصویر بناناخواہ ویڈیو کی صورت میں ہو ناجائز و گناہ ہے، یونہی میوزک لگانابھی حرام وگناہ ہے۔حدیث پاک میں ہے: ’’ان اشد الناس عذابا یوم القیٰمۃ المصورون‘‘( البخاری، ص:۱۰۹۷، رقم :۵۹۵۰) دوسری حدیث پاک میںہے:’’ لیکونن من امتی اقوام یستحلون الحر و الحریر والخمرو المعازف‘‘(البخاری، ص:۱۰۴۵، رقم:۵۵۹۰)
رد المحتار میں ہے: ’’کره كل لهو أی كل لعب وعبث والاطلاق شامل لنفس الفعل و استماعہ کالرقص والسخریۃ والتصفیق و ضرب الاوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزماروالصنج والبوق فانھا کلھا مکروھۃ لانھا زی الکفار واستماع ضرب الدف والمزمار وغیرذٰلک حرام‘‘(ج:۱، ص: ۵۶۶)
فتاویٰ رضویہ میں ہے: ’’ جاندار کی تصویر بنانی دستی ہو خواہ عکسی حرام ہے۔ (ج:۶، ص: ۴۸۷) نیز اسی میں ہے: ’’ مزامیر حرام ہیں‘‘(ج:۲۴، ص: ۱۳۹) ایسے بندے کو امام نہ بنائیں جب تک وہ توبہ نہ کرلے، اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔ حلبی صغیر میں ہے: ’’ و یکرم تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم‘‘(ص: ۶۸۰)والله تعالیٰ اعلم

کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس

قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۶؍ ربیع النور ۱۴۴۷؍ ۳۰؍ اگست ۲۰۲۵ء

الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے