فتویٰ نمبر:۵۵
کیافرماتے ہیں علماءدین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میںکہ کسی دعوت میں کسی شخص کے باپ کو دعوت ہو تو کیا باپ کی جگہ بیٹا یا اورکوئی اس دعوت میںشرکت کر سکتا ہے یا نہیں؟جواب عنایت فرمائیںعین نوازش ہوگی۔
المستفتی :محمد شمیم اختر،کٹواں بنارس
الجواب بعون الملک الوھاب
اگر وہاں یہ عرف وعادت ہو کہ باپ کی جگہ بیٹا وغیرہ شرکت کرتے ہوں اور میزبان پر یہ بات گراں بھی نہ گزرتی ہوتو اس بات کی اجازت ہوگی کہ دعوت میں بجائے باپ کے بیٹے وغیرہ شریک ہوں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے: ’’اذا کان الر جل علی مائدۃفناول غیرہ من طعام المائدۃ ان علم ان صاحبہ لایرضی بہ لایحل لہ ذلک ،وان علم انہ یرضی فلاباس بہ ،وان اشبہ علیہ لایناول ولایعطی سائلا ،کذافی فتاوی قاضیخان وان کانوا علی مائدتین لایناول بعضھم بعضا الااذا تیقنوا رضا رب البیت۔۔۔ ولایجوزلمن کان علی المائدۃ ان یعطی انسانا دخل ھناک لطلب انسان او لحاجۃاخری کذافی فتاوی قاضیخان،والصحیح فی ھذا انہ ینظرالی العرف والعادۃ دون التردد کذا فی الینابیع‘‘(ج:۵،ص:۳۹۸)
بہار شریعت میںہے ’’ایک دسترخوان پر جو لوگ کھانا تناول کرتے ہیںان میں سے ایک شخص کوئی چیز اٹھاکر دوسرے کو دے دے یہ جائز ہے جبکہ معلوم ہو کہ صاحب خانہ کو یہ دینا ناگوار نہ ہوگا اوراگر معلوم ہے کہ اسے ناگوار ہوگا تو دینا جائز نہیں بلکہ اگر مشتبہ حال ہو معلوم نہ ہو کہ ناگوار ہوگا یا نہیں جب بھی نہ دے‘‘ (ج:۳،ص:۳۹۳،)واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۶؍جمادی الاخری۱۴۴۶ھ۲۹؍دسمبر۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
