فتویٰ نمبر:۵۲
مفتی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں یہ سوال عرض ہے کہ کیا کافر حربی کو کھانا کھلانے سے ثواب ملےگا؟ نیز کیا کافر حربی کو کھانا کھلا سکتے ہیں؟ اور کیا کافر حربی کی مالی طور پر یا کسی بھی طور پر مدد کر سکتے ہیں ؟
المستفتی: محمد شمیم اختر رضوی ، بنارس
الجواب بعون الملک الوہاب
کافر حربی خواہ مستامن کو کھانا کھلانا خواہ کسی طورپر معاونت کرنا نا ہی کوئی کار ثواب وقربت اور نا ہی اس کی اذن و اجازت ہے۔
’’ غایۃ البیان‘‘، ’’بحر الرائق‘‘، پھر درمختار میں ہے:’’ أما الحربي ولومستأمنا فجميع الصدقات لاتجوز له بالإتفاق‘‘ (ج:۳،ص:۳۰۱)
ردالمحتار میں معراج الدرایہ سے ہے :’’ صلته لا تكون برا شرعاولذا لم يجز التطوع اليه فلم يقع قربة‘‘ (ج:۳ ،ص:۳۰۲)
فتاوی رضویہ میں ہے: ’’ کافروں کا صدقات وغیرہ میں کچھ حق نہیں اور نہ اس کو دینے کی اجازت۔‘‘ (ج:۲۰ ،ص:۵۸۹) والله تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۰؍ جمادی الاخریٰ ۱۴۴۴ھ ؍۲۲؍دسمبر ۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ،
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
