کیا فرماتے ہیںعلماے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ بچے کا عقیقہ زوہان نام سے ہوگیا ہے اب والدین اس نام کوبدل کر دوسرانام رکھنا چاہتے ہیں اس بارے میں شریعت کا کیاحکم ہے؟جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔
المستفتی:عبدالرشید،بنارس،یوپی
الجواب بعون الملک الوھاب
زوہان نام کامعنی ہمیں لغت میں نہیں ملا،بچوں کے نام رکھنے میں بہترطریقہ یہ ہے کہ انبیا،صحابہ ،صلحاوغیرہ نیک لوگوں کے نام پر ان کے نام رکھے جائیں کہ ان کی برکت حاصل ہو،ورنہ کم ازکم درست معنیٰ والے نام رکھے جائیں،اب جب کہ زوہان کا معنی معلوم نہیں تو والدین اگریہ نام بدلناچاہیں تو بدل دیں مگرجب کہ اسی نام سے عقیقہ ہوگیا تو اب دوبارہ عقیقہ کرنے کی حاجت نہیں ،فتاویٰ ہندیہ میں ہے:’’التسمیۃ باسم لم یذکرہ اللہ تعالیٰ فی عبادہ ولاذکرہ رسول اللہﷺولااستعملہ المسلمون تکلموافیہ والأولیٰ أن لایفعل‘‘ (ج:۵،ص:۴۱۸)،نیز اسی میں ہے:’’العقیقۃ عن الغلام وعن الجاریۃ وھی ذبح شاۃ فی سابع الولادۃ وضیافۃ الناس وحلق شعرہ مباحۃ لاسنۃ ولاواجبۃ‘‘(ایضاً)،بہار شریعت میں ہے:’’بچے کا اچھانام رکھا جائے ،ہندوستان میں بہت لوگوں کے نام ایسے ہیں جن کے کچھ معنی نہیں یا ان کے برے معنی ہیں ایسے ناموں سے احتراز کریں،انبیائےکرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ وتابعین وبزرگانِ دین کے نام پرنام رکھنابہترہے امید ہے کہ ان کی برکت بچہ کے شامل حال ہو۔‘‘(ج:۳،ص:۳۵۶) واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد امتیاز امجدی غفرلہ
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
قد صح الجواب ،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
واجد علی امجدی
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء ،لوہتہ بنارس
۲۱؍شعبان المعظم۱۴۴۵ھ؍۳؍مارچ ۲۰۲۴ء
الجواب صحیح،واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فقیر فیضان المصطفیٰ قادری غفرلہ
بانی وسرپرست جامعہ امام اعظم ابوحنیفہ ،لکھنؤ
