سوال: والد صاحب کے انتقال کے بعد ہم دو بھائی اور ایک بہن ہیں۔ کیا بہن کو بھائی سے آدھا حصہ ہی ملے گا؟
جواب:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
قرآن کریم کے حکم کے مطابق اگر میت کی اولاد میں بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہوں تو بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دو گنا حصہ ملے گا۔ یہ اللہ کا مقرر کردہ حصہ ہے۔ لہٰذا کل ترکہ کے 5 حصے کر کے 2-2 حصے دونوں بیٹوں کو اور 1 حصہ بیٹی کو دیا جائے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
فتویٰ نمبر: TS-2026-006
مفتی: ۔۔۔۔
تاریخ: 13 مئی 2026
